دُرُود شریف کی فضیلت
رَحمتِ عالَم، نورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم، شفیعِ اُمَم ، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ شَفاعت نشان ہے: ’’ جو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھے گا میں اُس کی شَفاعت فرماؤں گا۔‘‘ (اَلْقَوْلُ الْبَدِ یع ص۲۶۱ مؤسسۃ الریان بیروت)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ولادتِ باسعادت
میر ے آقا اعلٰی حضرت ، اِمامِ اَہْلسُنّت، ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِ سنّت ، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن کی ولادتِباسعادت بریلی شریف کے مَحَلّہ جَسولی میں۱۰ شَوّالُ المُکرّم ۱۲۷۲ھ بروزِ ہفتہ بوقتِ ظُہر مطابق 14جون1856ء کو ہوئی۔ سَن ِ پیدائش کے اِعتبار سے آپ کا نام اَلْمُختار (۱۲۷۲ھ) ہے۔ (حیاتِ اعلٰی حضرت ج۱ ص۵۸ مکتبۃ المدینہ بابُ )
اعلٰی حضرت کا سنِ ولادت
میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اپنا سَنِ ولادت پارہ28 سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر22 سے نکالا ہے۔ اِس آیتِ کریمہ کے عِلمِ اَبْجَد کے اعتبار کے مطابِق 1272عَدَد ہیں اور ہجری سال کے حساب سے یِہی آپ کا سنِ ولادت ہے
ولادت کی تاریخوں کا ذِکر تھا اور اس پر (سیِّدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے) ارشاد فرمایا: بِحَمْدِ اللہِ تعالٰی میری وِلادت کی تاریخ اس آیۃ کریمہ میں ہے.:
اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ- (پ، ۲۸، المجادلہ: ۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی۔
آپ کا نامِ مُبارَک محمد ہے اور آپ کے دادا نے احمد رضا کہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بچپن کی ایک حِکایت
جنابِ سیِّدایوب علی شاہ صاحِب رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ بچپن میں آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو گھر پر ایک مولوی صاحِب قراٰنِ مجید پڑھانے آیا کرتے تھے۔ ایک روز کا ذِکر ہے کہ مولوی صاحِب کسی آیتِ کریمہ میں بار بار ایک لفظ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو بتاتے تھے مگر آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی زَبانِ مبارَک سے نہیں نکلتا تھا وہ ’’زَبَر‘‘ بتاتے تھے آپ ’’زیر‘‘ پڑھتے تھے یہ کیفیت جب آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے دادا جان حضرتِ مولانا رضا علی خان صاحب رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے دیکھی توحُضُور (یعنی اعلیٰ حضرت) کو اپنے پاس بُلایا اور کلامِ پاک منگوا کر دیکھا تو اس میں کاتِب نے غَلَطی سے زیر کی جگہ زَبر لکھ دیا تھا، یعنی جو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی زَبان سے نکلتا تھا وہ صحیح تھا ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے دادا نے پوچھا کہ بیٹے جس طرح مولوی صاحب پڑھاتے تھے تم اُسی طرح کیوں نہیں پڑھتے تھے؟ عرض کی: میں ارادہ کرتا تھا مگر زَبان پر قابو نہ پاتا تھا۔
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ خود فرماتے تھے کہ میرے استاد جن سے میں ابتدائی کتاب پڑھتا تھا، جب مجھے سبق پڑھا دیا کرتے ، ایک دو مرتبہ میں دیکھ کر کتاب بند کر دیتا، جب سبق سنتے تو حَرف بَحرف لفظ بہ لفظ سنا دیتا ۔روزانہ یہ حالت دیکھ کر سخت تعجُّب کرتے ۔ایک دن مجھ سے فرمانے لگے کہ احمد میاں ! یہ تو کہو تم آدَمی ہو یا جِنّ؟ کہ مجھ کو پڑھاتے دیر لگتی ہے مگر تم کو یاد کرتے دیر نہیں لگتی! آپ نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے میں انسان ہی ہوں ہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل وکرم شامِل حال ہے۔ (حیاتِ اعلٰی حضرت ج ۱ ص ۶۸) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اعلٰی حضرت کی رِیاضی دانی
اللہ تعالٰی نے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو بے اندازہ عُلُوم جَلیلہ سے نوازا تھا ۔آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے کم وبیش پچاس عُلُوم میں قلم اُٹھایا اور قابلِ قَدر کُتُب تصنیف فرمائیں۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو ہر فن میں کافی دسترس حاصل تھی۔ علمِ تَوقِیت (عِلمِ تَو۔ قِی ۔ ت) میں اِس قَدَر کمال حاصل تھا کہ دن کو سورج اور رات کو ستارے دیکھ کر گھڑی مِلالیتے۔ وَقت بِالکل صحیح ہو تا اور کبھی ایک مِنَٹ کا بھی فرق نہ ہوا۔ علمِ رِیاضی میں آپ یگانۂ رُوزگار تھے۔ چُنانچہ علیگڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضِیاء الدِّین جو کہ رِیاضی میں غیر ملکی ڈگریاں اور تَمغہ جات حاصل کیے ہوئے تھے آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی خدمت میں ریاضی کا ایک مسئلہ پوچھنے آئے۔ارشاد ہوا: فرمائیے! اُنہوں نے کہا: وہ ایسا مسئلہ نہیں جسے اتنی آسانی سے عَرض کروں۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے فرمایا: کچھ تو فرمایئے۔ وائس چانسلر صاحِب نے سُوال پیش کیا تو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اُسی وَقت اس کا تَشَفّی بخش جواب دے دیا۔ اُنہوں نے اِنتہائی حیرت سے کہا کہ میں اِس مسئلے کے لیے جرمن جانا چاہتا تھا اِتِّفاقاً ہمارے دینیات کے پروفیسر مولانا سیِّد سُلَیمان اشرف صاحِب نے میری راہنمائی فرمائی اور میں یہاں حاضِر ہوگیا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ اسی مسئلے کو کتاب میں دیکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحِب بصد فرحت و مَسرّت واپَس تشریف لے گئے اور آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی شخصیَّت سے اِس قَدَر مُتَأَثِّر ہوئے کہ داڑھی رکھ لی اور صَوم وصَلوٰۃ کے پابند ہوگئے۔(ایضاً ص۲۲۳، ۲۲۹) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
عِلاوہ ازیں میرے آقااعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ علمِ تکسِیر، علمِ ہیئت ، علمِ جَفر وغیرہ میں بھی کافی مَہارت رکھتے تھے۔