Followers

Monday, August 2, 2021

امامِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا مناظرہ:

       امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’مدینہ منورہ کے چند علماء امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس اس غرض سے آئے کہ وہ امام کے پیچھے مقتدی کی قراء ت کرنے کے معاملے میں ان سے مناظرہ کریں۔امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے فرمایا:سب سے مناظرہ کرنا میرے لئے ممکن نہیں ،آپ ایسا کریں کہ مناظرے کا معاملہ اس کے سپرد کر دیں جو آپ سب سے زیادہ علم والا ہے تاکہ میں اس کے ساتھ مناظرہ کروں۔انہوں نے ایک عالم کی طرف اشارہ کیا تو امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:کیا یہ تم سب سے زیادہ علم والا ہے؟انہوں نے جواب دیا: ’’ہاں۔‘‘امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:کیا میرا اس کے ساتھ مناظرہ کرنا تم سب کے ساتھ مناظرہ کرنے کی طرح ہے؟انہوں نے کہا :’’ہاں۔‘‘امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:اس کے خلاف جو دلیل قائم ہو گی وہ گویا کہ تمہارے خلاف قائم ہو گی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’ہاں۔‘‘ امام ابو حنیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:اگر میں اس کے ساتھ مناظرہ کروں اور دلیل میں اس پرغالب آ جاؤں تو وہ دلیل تم پر بھی لازم ہو گی؟انہوں نے کہا: ’’ہاں۔‘‘ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دریافت کیا:وہ دلیل تم پر کیسے لازم ہو گی؟انہوں نے جواب دیا:’’اس لئے کہ ہم اسے اپنا امام بنانے پر راضی ہیں تو اس کی بات ہماری بات ہو گی۔‘‘امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ جب ہم نے ایک شخص کو نماز میں اپنا امام مان لیا تو اس کا قراء ت کرنا ہمارا قراء ت کرناہے اور وہ ہماری طرف سے نائب ہے۔ امام ابو حنیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی یہ بات سن کر سب نے اقرار کر لیا(کہ امام کے پیچھے مقتدی قراء ت نہیں کرے گا)(تفسیرکبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ:۳۰، ۱ / ۴۱۲)

(2) …’’نماز جنازہ‘‘ میں خاص دعا یاد نہ ہو تو دعا کی نیت سے ’’سورۂ فاتحہ‘‘ پڑھنا جائز ہے جبکہ قراء ت کی نیت سے پڑھنا جائز نہیں۔(عالمگیری، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون، الفصل الخامس، ۱ / ۱۶۴)

Saturday, June 26, 2021

کیا پاجامہ یا تہبند کے نیچے نیکر ،انڈرویئر یا لنگوٹ پہننا ضروری ہے ؟؟

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ


کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ نماز کی حالت میں جبہ کے نیچے پاجامہ پہننا ضروری ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں

_______________________________________



وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالی وبرکاتہ 


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 الجواب بعون الملک الوھاب 


اتنا باریک جبہ کہ جس سے جسم کی رنگت چمکے تو ایسی صورت میں ایسا پاجامہ پہننا کہ جس سے اسکی شرعی طور ستر پوشی ہو سکے لازم و  ضروری ہے 


حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں 


*مرد کے لیے ناف کے نیچے سے گھٹنوں  کے نیچے تک عورت ہے، یعنی اس کا چھپانا فرض ہے*۔ ناف اس میں  داخل نہیں  اور گھٹنے داخل ہیں ۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)


فتاوی فیض الرسول میں ہے : 


مرد کو ناف سے گھٹنوں تک چھپانا فرض ہے لہذا اتنی باریک لنگی یا دھوتی پہن کر نماز پڑھی جس سے بدن کی رنگت چمکی تو نماز بلکل نہ ہوئی 


مستفاد از فتاوی فیض الرسول ج۱ ص۲۳۴


اور اگر جبہ صورت مذکورہ پر نہیں بلکہ شرعی طور پر ستر پوشی کرتا ہے تو ایسی صورت میں پاجامہ یا لنگوٹ پہننا کچھ ضروری نہیں کہ اصل حکم ستر ہے اور وہ جبہ سے حاصل ہے  



نور الایضاح میں ہے : 


و منھا ستر العورۃ (للاجماع علی افتراضہ ولو  فی ظلمۃ، و الشرط سترھا  من جوانب المصلی علی الصحیح) ولا یضر نظرھا من جیبہ (فی قول عامۃ المشائخ ولا یضر لو نظرھا احد من )اسفل ذیلہ (لان التکلف لمنعہ فیہ حرج ) 




نور الایضاح مع مراقی الفلاح صفحہ نمبر ۱۲۴ 


قال الامام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نقلا عن الدر المختار : الشرط سترھا عن غیرہ لا نفسہ بہ یفتی


ایضا//


حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں 


  اوروں  سے ستر فرض ہونے کے یہ معنی ہیں  کہ *اِدھراُدھر سے نہ دیکھ سکیں ، تو معاذاﷲ اگر کسی شریر نے نیچے جھک کر اعضا کو دیکھ لیا، تو نماز نہ گئی*۔ (6) (عالمگیری)



مستفاد از بہار شریعت حصہ سوم 



والمستحب ان یصلی فی ثلاثہ ثیاب من احسن ثیابہ ازار و قمیص و عمامۃ 


نور الایضاح ص۱۲۴ 


واللہ ورسولہ اعلم عز و جل صلی اللہ علیہ وسلم