Followers

Saturday, September 9, 2023

MANHOOS KON?



 

 مَنحُوس کون؟

     ایک بادشاہ اپنے وزیروں  مُشیروں  کے ساتھ دربار میں  موجود تھا کہ  کالے رنگ کے ایک آنکھ والے آدمی کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا ، لوگوں  کو شکایت تھی کہ یہ ایسا منحوس ہے کہ جو صبح سویرے اِس کی شکل دیکھ لیتا ہے اُسے ضرورکوئی نہ کوئی نُقصان اُٹھانا پڑتا ہے لہٰذا اِسے مُلک سے نکال دیا جائے ۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بادشاہ نے کہا : کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میں  خود تجربہ کروں  گا اور کل صبح سب سے پہلے اِس کی صورت دیکھوں  گا پھر کوئی دوسرا کام کروں  گا ۔ اگلے دن جب بادشاہ بیدار ہوا اور خوابگاہ کا دروازہ کھولا تووہی ایک آنکھ والا آدمی سامنے کھڑا تھا ۔ بادشاہ اس کو دیکھ کر واپس پَلٹ آیا اور دربار میں  جانے کے لئے تیار ہونے لگا ۔ لباس تبدیل کرنے  کے بعد جُونہی بادشاہ نے جوتے میں  اپنا پاؤں  ڈالا اُس میں  موجود زہریلے بِچھو نے ڈنک مار دیا۔ بادشاہ کی چیخیں  بلند ہوئیں  تو خدمت گار بھاگم بھاگ اس کے پاس پہنچے ۔ زہر کے اثر سے بادشاہ کا سُرخ وسفید چہرہ نیلا پڑ چکا تھا ، محل میں  شور مچ گیا کہ ’’بادشاہ سلامت کو بچھو نے کاٹ لیا ہے ۔ ‘‘ چند لمحوں  میں  وزیرِ خاص بھی پہنچ گئے ، ہاتھوں  ہاتھ شاہی طبیب کو طَلَب کر لیا گیا جس نے بڑی مَہارت سے بادشاہ کا علاج شروع کردیا ۔ جیسے تیسے کر کے بادشاہ کی جان تو بچ گئی لیکن اسے کئی روز بسترِ عَلالت پر گزارنا پڑے ۔ جب طبیعت ذرا سنبھلی اوربادشاہ دربارمیں  بیٹھا تو ایک آنکھ والے آدمی کو دوبارہ پیش کیا گیا تاکہ اسے سزا سُنا ئی جائے کیونکہ شکایت کرنے والوں  کاکہنا تھا کہ اب اس کے ’’منحوس‘‘ ہونے کا تجربہ خود بادشاہ سلامت کرچکے ہیں۔ وہ شخص رو رو کر رحم کی فریاد کرنے لگاکہ مجھے میرے وطن سے نہ نکالا جائے ۔ یہ دیکھ کر ایک وزیر کو اس پر رحم آگیا ، اس نے بادشاہ سے بولنے کی اِجازت لی اور کہنے لگا : بادشاہ سلامت ! آپ نے صبح صبح اس کی صورت دیکھی تو آپ کو بِچھو نے کاٹ لیااس لئے یہ منحوس ٹھہرا لیکن معاف کیجئے گا کہ اِس نے بھی صبح سویرے آپ کا چہرہ دیکھا تھا جس کے بعد سے یہ اب تک قید میں  تھا اور اب شاید اسے مُلک بَدری(یعنی مُلک چھوڑنے) کی سزا سُنا دی جائے تو ذراٹھنڈے دل سے غور کیجئے کہ منحوس کون؟ یہ شخص یا آپ ؟ یہ سُن کر بادشاہ لاجواب ہوگیا اور ایک آنکھ والے کالے آدمی کو نہ صِرْف آزاد کردیا بلکہ 

اِعلان کروا دیا کہ آیندہ کسی نے اس کو منحوس کہا تو اُسے سخت سزا دی جائے گی ۔





Friday, September 8, 2023

life of imam ahmad raza bareilly shareef


 دُرُود شریف کی فضیلت 

      رَحمتِ عالَم، نورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم، شفیعِ اُمَم ، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ شَفاعت نشان ہے: ’’ جو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھے گا میں اُس کی شَفاعت فرماؤں گا۔‘‘  (اَلْقَوْلُ الْبَدِ یع ص۲۶۱ مؤسسۃ الریان بیروت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


ولادتِ باسعادت

             میر  ے آقا اعلٰی حضرت ، اِمامِ اَہْلسُنّت،  ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین  ومِلَّت، حامیِ سنّت ، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن کی ولادتِباسعادت بریلی شریف کے مَحَلّہ جَسولی میں۱۰ شَوّالُ المُکرّم ۱۲۷۲ھ بروزِ ہفتہ بوقتِ ظُہر مطابق 14جون1856ء کو ہوئی۔ سَن ِ پیدائش کے اِعتبار سے آپ کا نام  اَلْمُختار  (۱۲۷۲ھ)  ہے۔ (حیاتِ اعلٰی حضرت ج۱ ص۵۸ مکتبۃ المدینہ بابُ  )




اعلٰی حضرت کا سنِ ولادت

            میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اپنا سَنِ ولادت پارہ28 سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر22 سے نکالا ہے۔ اِس آیتِ کریمہ کے عِلمِ اَبْجَد کے اعتبار کے مطابِق 1272عَدَد ہیں اور ہجری سال کے حساب سے یِہی آپ کا سنِ ولادت ہے


ولادت کی  تاریخوں کا ذِکر تھا اور اس پر (سیِّدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے) ارشاد فرمایا:   بِحَمْدِ اللہِ تعالٰی میری وِلادت کی تاریخ اس آیۃ کریمہ میں ہے.:

اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ-  (پ، ۲۸، المجادلہ۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہیں جن کے دلوں میں  اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی۔

            آپ کا نامِ مُبارَک محمد ہے اور آپ کے دادا نے احمد رضا کہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔    

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد




بچپن کی ایک حِکایت


     جنابِ سیِّدایوب علی شاہ صاحِب رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ بچپن میں آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو گھر پر ایک مولوی صاحِب قراٰنِ مجید پڑھانے آیا کرتے تھے۔ ایک روز کا ذِکر ہے کہ مولوی صاحِب کسی آیتِ کریمہ میں بار بار ایک لفظ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو بتاتے تھے مگر آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی زَبانِ مبارَک سے نہیں نکلتا تھا وہ ’’زَبَر‘‘ بتاتے تھے آپ ’’زیر‘‘ پڑھتے تھے یہ کیفیت جب آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے دادا جان حضرتِ مولانا رضا علی خان صاحب  رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے دیکھی توحُضُور (یعنی اعلیٰ حضرت)  کو اپنے پاس بُلایا اور کلامِ پاک منگوا کر دیکھا تو اس میں کاتِب نے غَلَطی سے زیر کی جگہ زَبر لکھ دیا تھا، یعنی جو اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی زَبان سے نکلتا تھا وہ صحیح تھا ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے دادا نے پوچھا کہ بیٹے جس طرح مولوی صاحب پڑھاتے تھے تم اُسی طرح کیوں نہیں پڑھتے تھے؟  عرض کی:  میں ارادہ کرتا تھا مگر زَبان پر قابو نہ پاتا تھا۔

            اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ خود فرماتے تھے کہ میرے استاد جن سے میں ابتدائی کتاب پڑھتا تھا، جب مجھے سبق پڑھا دیا کرتے ، ایک دو مرتبہ میں دیکھ کر کتاب بند کر دیتا، جب سبق سنتے تو حَرف بَحرف لفظ بہ لفظ سنا دیتا ۔روزانہ یہ حالت دیکھ کر سخت تعجُّب کرتے ۔ایک دن مجھ سے فرمانے لگے کہ احمد میاں !  یہ تو کہو تم آدَمی ہو یا جِنّ؟  کہ مجھ کو پڑھاتے دیر لگتی ہے مگر تم کو یاد کرتے دیر نہیں لگتی!  آپ نے فرمایا کہ اللہ  کا شکر ہے میں انسان ہی ہوں ہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا فضل وکرم شامِل حال ہے۔  (حیاتِ اعلٰی حضرت ج ۱ ص ۶۸)  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔         اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم



اعلٰی حضرت کی رِیاضی دانی


اللہ تعالٰی نے اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو بے اندازہ عُلُوم جَلیلہ سے نوازا تھا ۔آپ  رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے کم وبیش پچاس عُلُوم میں قلم اُٹھایا اور قابلِ قَدر کُتُب تصنیف فرمائیں۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو ہر فن میں کافی دسترس حاصل تھی۔ علمِ تَوقِیت  (عِلمِ تَو۔ قِی ۔ ت)  میں اِس قَدَر کمال حاصل تھا کہ دن کو سورج اور رات کو ستارے دیکھ کر گھڑی مِلالیتے۔ وَقت بِالکل صحیح ہو تا اور کبھی ایک مِنَٹ کا بھی فرق نہ ہوا۔ علمِ رِیاضی میں آپ یگانۂ رُوزگار تھے۔ چُنانچہ علیگڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضِیاء الدِّین جو کہ رِیاضی میں غیر ملکی ڈگریاں اور تَمغہ جات حاصل کیے ہوئے تھے آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی خدمت میں ریاضی کا ایک مسئلہ پوچھنے آئے۔ارشاد ہوا:  فرمائیے!  اُنہوں نے کہا:  وہ ایسا مسئلہ نہیں جسے اتنی آسانی سے عَرض کروں۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے فرمایا:  کچھ تو فرمایئے۔ وائس چانسلر صاحِب نے سُوال پیش کیا تو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اُسی وَقت اس کا تَشَفّی بخش جواب دے دیا۔ اُنہوں نے اِنتہائی حیرت سے کہا کہ میں اِس مسئلے کے لیے جرمن جانا چاہتا تھا اِتِّفاقاً ہمارے دینیات کے پروفیسر مولانا سیِّد سُلَیمان اشرف صاحِب نے میری راہنمائی فرمائی اور میں یہاں حاضِر ہوگیا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ اسی مسئلے کو کتاب میں دیکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحِب بصد فرحت و مَسرّت واپَس تشریف لے گئے اور آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی شخصیَّت سے اِس قَدَر مُتَأَثِّر ہوئے کہ داڑھی رکھ لی اور صَوم وصَلوٰۃ کے پابند ہوگئے۔(ایضاً ص۲۲۳، ۲۲۹)  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔                اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

عِلاوہ ازیں میرے آقااعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ علمِ تکسِیر، علمِ ہیئت ، علمِ جَفر وغیرہ میں بھی کافی مَہارت رکھتے تھے۔ 

Monday, January 17, 2022

DAASTAAN-E-ZULAIKHA KI KYA HAQEEQAT HAI ??

 KYA SACH ME KOI ZULAIKHA THI ??


ZULAIKHA EK MAGHRIBI (WESTERN)BADSHAH TAIMUS KI BEHAD KHOOBSURAT SHAHZADI THI , 9 BARAS KI UMAR ME JAB KHWAB ME PAHLI MARTABA HAZRAT YUSUF ( علیہ الصلوۃ والسلام ) KO DEKHA , TO USI WAQT AAPKI DEEEWANI HO GYI ..







HAZRAT YUSUF علیہ الصلوۃ والسلام
K HUSN KI KYA SHAN HAI !


JAB HAZRAT YUSUF علیہ الصلوۃ والسلام KO MISR ( EGYPT  ) K BAZAR M LAYA GYA TO ALLAH NE HAZRAT YUSUF (علیہ الصلوۃ والسلام) K HUSN KA JALWA ZAHIR FARMA DIYA. LOG DEEDAR K LIYE BE-KARAAR HOKAR IS TEZI SE DAUDE K 25000 MARD O AURAT HALAK HO. GYE ,HUSN-E-YUSUF (علیہ الصلوۃ والسلام) K JALWO KI SOZISH NE MAZEED  5000 MARD AUR 360 KUNWARI AURTON KI SASON PAR QABZA KAR LIYA ..





ZULAIKHA KI KOSHISH !!


ZULAIKHA JO K EK MURTI KO POOJNE WALI AURAT THI ,USNE HAZRAT  YUSUF (علیہ الصلوۃ والسلام) KO PAANE K LIYE BAHUT KOSHISHE KI YAHA TAK   KE ZAMANE KI GARDISH NE USKO BUDHI , KAMZOOR AUR NABINA  KARDIYA ...


JAB HAZRAT YAKOOB (علیہ الصلوۃ والسلام) MISR TASHREEF LAYE . TO HAZRAT YUSUF  (علیہ الصلوۃ والسلام)APNI FAUJ KE SATH  WELCOME K LIYE NIKLE ,ZULAIKHA B EK AURAT KA HATH PAKDE , USI RASTE KHADI THI AUR US S KAH RAKHA THA

 " JAB HAZRAT YUSUF (علیہ الصلوۃ والسلام) YAHA S GUZRE TO MUJHE KHABAR KARDENA "









JAISE HI HAZRAT YUSUF ( علیہ الصلوۃ والسلام) KA GUZAR HUA ZULAIKHA N AWAZ LAGAYI MAGAR HAZRAT YUISUF ( علیہ الصلوۃ والسلام) KI TAWAJJUH APKI TARAF NA HUI.


USI WAQT HAZRAT JIBRAEEL  (علیہ الصلوۃ والسلام)TASHLEEF LAYE AUR HAZRAT YUSUF (علیہ الصلوۃ والسلام) KI SAWARI KO THAMKAR KAHA :  "UTARYE AUR IS AURAT KA JAWAB DIJIYE " 

HAZRAT YUSUF (علیہ الصلوۃ والسلام ) NE US AURAT SE PUCHA ; "TU KON HAI" ??
ZULAIKHA APNE SAR PAR MITTI DALTI HUI KAHNE LAGI :  " MAI WAHI ZULAIKHA HON JISNE TAN MAN SE TERI KHIDMAT KI .

HAZRAT YUSUF  (علیہ الصلوۃ والسلام)NE ALLAH K HUKM SE USKI KHWAHISH PIUCHI! .ZULAIKHA N NIKAH KI KHWAHISH KA IZHAR KIYA.
HAZRAT YUSUF (علیہ الصلوۃ والسلام) NE KAHA " MAI TUJH KAFIRA SE KISE NIKAH KAR SAKTA HO ".. 

ALLAH KI SHAAN DEKHIYE ! 

HAZRAT JIBRAEEL (علیہ الصلوۃ والسلام) NE ZULAIKHA KO HATH LAGAYA TO WO PAHLE KI TARAH JAWAN HO CHUKI THI USKA  BE-MISSAL HUSN LAUT AAYA YAHA TAK K USNE MURTI POOJA SE  TAUBA KI  HAZRAT YAKOOB (علیہ الصلوۃ والسلام) NE AP DONO KA NIKAH PADAYA .........CONTINUE--------------





Wednesday, January 12, 2022

SHERNI BACHA KAISE PAIDA KARTI HAI ??

 SHERNI BACHA KAISE PAIDA KARTI HAI?











SHER 🦁 WILD ANIMAL ME SABSE ZYADA MASH,HOOR 🚩 JANWAR HAI . ARABIC LANGUAGE  ME SHER KO "ASAD" KAHTE HAI .

SHER KE NAM 

SHER🦁 KE BAHUT SARE  NAME HAI , AISA KAHA JATA HAI KI JISKE ZYADA NAME📑 HOTE HAI TO Y USKE AZMAT AUR GREATNESS💪 HONE KA SABOOT 💖HOTA HAI .

IMAM IBNE KHALWIYA FARMATE HAI : " SHER KE 500 NAM HAI AUR SHER K ANDAR 500 KHOOBI HAI.

 JABKI DUSRE IMAM NE  Y BAT B KAHI HAI K " SHER K 500 NAM K SATH SATH 130 NAM AURT HAI YANI USKE KUL NAM 630 HAI .


SHERNI KAISE BACHAA PAIDA KARTI HAI 


MAHIREEN-E-HAIWANAT(ANIMAL'S  EXPERTS ) KA KAHNA HAI . SHERNI KE BACHA DENE KA TAREEQA AJEEEB O GAREEB HAI K SHERNI GOSHT KA EK BE-JAN SA TUKDA APNE PET SE NIKAL KAR ZAMEEN PAR PHEK DETI HAI , PHIR USKI 3 DIN TAK HIFAZAT KARTI HAI.

 JABKI SHER LAGATAR US PAR PHONKH MARTA RAHTA HAI , YAHA TAK KE US GOSHT KE TUKDE  ME ROH PAIDA HO JATI HAI . USKE BAD BACHE K BODY PARTS BANNA SHURU HO JATE HAI AUR WO LOTHDA(GOSHT KA TUKDA) SHAKL-O-SURAT IKHTIYAR KAR LETA HAI . SHERNI DOODH PILAKLA
R USKI PARWARISH KARTI HAI .


PHIR BACHAA SAAT DIN BAD AANKHE 👀KHOL KAR IS DUNYA KO DEKHTA HAI AUR 6 MAHEENE BAD USE APNI ZIMMEDARI KA AHSAS HO JATA HAI .


SHER KI KHOOBIYA 


SHER BHOOKH KI HAALAT ME SABR KARTA HAI .USE PYAS BAHUT KAM LAGTI HAI ,SHER KI KHOOBIYON ME SE EK KHOOBHI Y BHI HAI K WO DUSRE JANWARO KA JHOTHAN NAHI KHATA , AGER SHIKAR KHATE HUE SHER KA PET BHAR JAYE TO BACHA HUA SHIKAR WOHI CHOR DETA HAI ,AUR US PER DUBARA WAPAS NAHI AATA , SHER KUTTE KA JHOTHA PANI BILKUL NAHI PEETA HAI .!


DOSTO AGER AAPKO Y POST ACHI LAGI TO PLZ MUJHE FOLLOW KARE AUR APNE DOSTON K SATH SHARE KARE 





Sunday, January 9, 2022

HAZRAT AADAM علیہ السلام KO AADAM KYU KAHTE HAI ???

 HAZRAT     AADAM  علیہ السلام KO AADAM  علیہ السلام IS LIYE KAHTE HAI ,

KYU K

                                                                    "AADAM" 

Y EK ARABIC WORD HAI AUR ISKA MATLAB HOTA HAI "ZAMEEN KI MITTI KA UPER WALA HISAA" 



AUR KITABO ME AISA LIKHA HAI K HAZRAT AADAM KO MITTI SE PAIDA KYA HAI ISLIYE AAPKO AADAM KAHTE HAI



FROM

MOHD MUJAHID HUSAIN
PLZ DO LIKE AND FOLLOW ME ALSO



Monday, August 2, 2021

امامِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا مناظرہ:

       امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’مدینہ منورہ کے چند علماء امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس اس غرض سے آئے کہ وہ امام کے پیچھے مقتدی کی قراء ت کرنے کے معاملے میں ان سے مناظرہ کریں۔امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے فرمایا:سب سے مناظرہ کرنا میرے لئے ممکن نہیں ،آپ ایسا کریں کہ مناظرے کا معاملہ اس کے سپرد کر دیں جو آپ سب سے زیادہ علم والا ہے تاکہ میں اس کے ساتھ مناظرہ کروں۔انہوں نے ایک عالم کی طرف اشارہ کیا تو امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:کیا یہ تم سب سے زیادہ علم والا ہے؟انہوں نے جواب دیا: ’’ہاں۔‘‘امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:کیا میرا اس کے ساتھ مناظرہ کرنا تم سب کے ساتھ مناظرہ کرنے کی طرح ہے؟انہوں نے کہا :’’ہاں۔‘‘امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:اس کے خلاف جو دلیل قائم ہو گی وہ گویا کہ تمہارے خلاف قائم ہو گی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’ہاں۔‘‘ امام ابو حنیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:اگر میں اس کے ساتھ مناظرہ کروں اور دلیل میں اس پرغالب آ جاؤں تو وہ دلیل تم پر بھی لازم ہو گی؟انہوں نے کہا: ’’ہاں۔‘‘ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دریافت کیا:وہ دلیل تم پر کیسے لازم ہو گی؟انہوں نے جواب دیا:’’اس لئے کہ ہم اسے اپنا امام بنانے پر راضی ہیں تو اس کی بات ہماری بات ہو گی۔‘‘امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ جب ہم نے ایک شخص کو نماز میں اپنا امام مان لیا تو اس کا قراء ت کرنا ہمارا قراء ت کرناہے اور وہ ہماری طرف سے نائب ہے۔ امام ابو حنیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی یہ بات سن کر سب نے اقرار کر لیا(کہ امام کے پیچھے مقتدی قراء ت نہیں کرے گا)(تفسیرکبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ:۳۰، ۱ / ۴۱۲)

(2) …’’نماز جنازہ‘‘ میں خاص دعا یاد نہ ہو تو دعا کی نیت سے ’’سورۂ فاتحہ‘‘ پڑھنا جائز ہے جبکہ قراء ت کی نیت سے پڑھنا جائز نہیں۔(عالمگیری، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون، الفصل الخامس، ۱ / ۱۶۴)

Saturday, June 26, 2021

کیا پاجامہ یا تہبند کے نیچے نیکر ،انڈرویئر یا لنگوٹ پہننا ضروری ہے ؟؟

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ


کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ نماز کی حالت میں جبہ کے نیچے پاجامہ پہننا ضروری ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں

_______________________________________



وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالی وبرکاتہ 


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 الجواب بعون الملک الوھاب 


اتنا باریک جبہ کہ جس سے جسم کی رنگت چمکے تو ایسی صورت میں ایسا پاجامہ پہننا کہ جس سے اسکی شرعی طور ستر پوشی ہو سکے لازم و  ضروری ہے 


حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں 


*مرد کے لیے ناف کے نیچے سے گھٹنوں  کے نیچے تک عورت ہے، یعنی اس کا چھپانا فرض ہے*۔ ناف اس میں  داخل نہیں  اور گھٹنے داخل ہیں ۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)


فتاوی فیض الرسول میں ہے : 


مرد کو ناف سے گھٹنوں تک چھپانا فرض ہے لہذا اتنی باریک لنگی یا دھوتی پہن کر نماز پڑھی جس سے بدن کی رنگت چمکی تو نماز بلکل نہ ہوئی 


مستفاد از فتاوی فیض الرسول ج۱ ص۲۳۴


اور اگر جبہ صورت مذکورہ پر نہیں بلکہ شرعی طور پر ستر پوشی کرتا ہے تو ایسی صورت میں پاجامہ یا لنگوٹ پہننا کچھ ضروری نہیں کہ اصل حکم ستر ہے اور وہ جبہ سے حاصل ہے  



نور الایضاح میں ہے : 


و منھا ستر العورۃ (للاجماع علی افتراضہ ولو  فی ظلمۃ، و الشرط سترھا  من جوانب المصلی علی الصحیح) ولا یضر نظرھا من جیبہ (فی قول عامۃ المشائخ ولا یضر لو نظرھا احد من )اسفل ذیلہ (لان التکلف لمنعہ فیہ حرج ) 




نور الایضاح مع مراقی الفلاح صفحہ نمبر ۱۲۴ 


قال الامام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نقلا عن الدر المختار : الشرط سترھا عن غیرہ لا نفسہ بہ یفتی


ایضا//


حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں 


  اوروں  سے ستر فرض ہونے کے یہ معنی ہیں  کہ *اِدھراُدھر سے نہ دیکھ سکیں ، تو معاذاﷲ اگر کسی شریر نے نیچے جھک کر اعضا کو دیکھ لیا، تو نماز نہ گئی*۔ (6) (عالمگیری)



مستفاد از بہار شریعت حصہ سوم 



والمستحب ان یصلی فی ثلاثہ ثیاب من احسن ثیابہ ازار و قمیص و عمامۃ 


نور الایضاح ص۱۲۴ 


واللہ ورسولہ اعلم عز و جل صلی اللہ علیہ وسلم